شاعری ہب / غزل / سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی

سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی

Samundaron ke Udhar se Koi Sada Ai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی

دلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئی

سرک گئے تھے جو آنچل وہ پھر سنوارے گئے

کھلے ہوئے تھے جو سر ان پہ پھر ردا آئی

اتر رہی ہیں عجب خوشبوئیں رگ و پے میں

یہ کس کو چھو کے مرے شہر میں صبا آئی

اسے پکارا تو ہونٹوں پہ کوئی نام نہ تھا

محبتوں کے سفر میں عجب فضا آئی

کہیں رہے وہ مگر خیریت کے ساتھ رہے

اٹھائے ہاتھ تو یاد ایک ہی دعا آئی

Samandaron ke idhar se Koi sada Aai

Dilon ke Band drichey khile hua Aai

Srk gaye the jo ãcal woh phir snoarey gaye

Khile hue the jo sar Un pe phir rda Aai

Uttar rhi hain ajab khoshboin rag-o-Pay mein

Yeh Kis ko Chhoo ke mare Shehar mein Saba Aai

Ise / Use Pukara to Honton pe Koi Naam na tha

Muhabbaton ke Safar mein ajab faza Aai

Kahein rhey woh magar khairiyat ke saath rhey

Athae haath to Yaad Ek hi Dua Aai

غزل Urdu
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے