شاعری ہب / غزل / ہم نے ہر دور میں سچ بول کے دیکھا ہے

ہم نے ہر دور میں سچ بول کے دیکھا ہے

Hum Ne Har Daur mein Sach Bol ke Dekha Hafeez Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم نے ہر دور میں سچ بول کے دیکھا ہے

ظالم کے ستم کو بھی تول کے دیکھا ہے

ہم نے تو لٹایا ہے فصاحت کا وہ بحرِ بیکراں

جسے ہر سخن شناس نے کھول کے دیکھا ہے

حفیظؔ وطن کی محبت ہی سب سے بڑا ہنر

جسے ہر اک محبِ وطن نے بول کے دیکھا ہے

Hum Ne Har Daur Mein Sach Bol Ke Dekha Hai

Zaalim Ke Sitam Ko Bhi Tol Ke Dekha Hai

Hum Ne To Lutaya Hai Fasaahat Ka Woh Behr-e-Bekaraan

Jise Har Sukhan-Shinaas Ne Khol Ke Dekha Hai

غزل Urdu
Comment
ابو الاثر حفیظ جالندھری
تعارفِ شاعر

ابو الاثر حفیظ جالندھری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 جنوری 1900 — 21 دسمبر 1982 📍

ابو الاثر حفیظ جالندھری (14 جنوری 1900ء – 21 دسمبر 1982ء) پاکستان کے قومی ترانے کے خالق، ممتاز ترین غزل گو، گیت نگار اور اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے منظوم شاہکار 'شاہنامہ اسلام' کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے