شاعری ہب / غزل / یہ دل کی آگ ہے جو بھڑکتی ہے ہر گھڑی

یہ دل کی آگ ہے جو بھڑکتی ہے ہر گھڑی

Yeh Dil ki Aag Hai Jo Bhadaakti Hai Har Ghadi Ghazal Hafeez

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ دل کی آگ ہے جو بھڑکتی ہے ہر گھڑی

جب تک نہ ملے سچی وفا کا کوئی سراغ

ہم تو نکلے تھے اس دیارِ الفت کے لیے

پر زمانے نے بجھا دیا ہر اک چراغ

حفیظؔ صدمۂ فرقت میں بھی مسکراتے رہے ہم

جب سینے میں سجا تھا محبت کا داغ

Yeh Dil Ki Aag Hai Jo Bhadakti Hai Har Ghadi

Jadon Tak Na Mile Sacchi Wafa Ka Koi Suraagh

Hum To Nikle The Is Diyaar-e-Ulfat Ke Liye

Par Zamane Ne Bujha Diya Har Ik Chiraagh

غزل Urdu
Comment
ابو الاثر حفیظ جالندھری
تعارفِ شاعر

ابو الاثر حفیظ جالندھری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 جنوری 1900 — 21 دسمبر 1982 📍

ابو الاثر حفیظ جالندھری (14 جنوری 1900ء – 21 دسمبر 1982ء) پاکستان کے قومی ترانے کے خالق، ممتاز ترین غزل گو، گیت نگار اور اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے منظوم شاہکار 'شاہنامہ اسلام' کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے