شاعری ہب / غزل / دیکھنا قسمت کہ ٹوٹے دست و بازوئے ستم

دیکھنا قسمت کہ ٹوٹے دست و بازوئے ستم

Dekhna Qismat ke Toote Dast-o-Baazu-e-Sitam Ghazal Hafeez

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دیکھنا قسمت کہ ٹوٹے دست و بازوئے ستم

تیر ترکش میں رہے اور بزم سے قاتل گیا!

ہم نے تو سینہ تان کر سچائی کی جنگ لڑی

اور باطل کا ہر اک فریب باطل گیا!

حفیظؔ حق کی فتح کا یہ ترانہ گونجے گا

جب زمانے سے ہر اک ظلم کا عادل گیا!

Dekhna Qismat Ke Toote Dast-o-Baazu-e-Sitam

Teer Tarkash Mein Rahe Aur Bazm Se Qaatil Gaya!

Hum Ne To Seena Taan Kar Sacchayi Ki Jung Ladi

Aur Baatil Ka Har Ik Fareb Baatil Gaya!

غزل Urdu
Comment
ابو الاثر حفیظ جالندھری
تعارفِ شاعر

ابو الاثر حفیظ جالندھری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 جنوری 1900 — 21 دسمبر 1982 📍

ابو الاثر حفیظ جالندھری (14 جنوری 1900ء – 21 دسمبر 1982ء) پاکستان کے قومی ترانے کے خالق، ممتاز ترین غزل گو، گیت نگار اور اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے منظوم شاہکار 'شاہنامہ اسلام' کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے