شاعری ہب / غزل / دل کی خلش کو دل میں دبا کر چلے گئے

دل کی خلش کو دل میں دبا کر چلے گئے

Dil ki Khalish ko Dil mein Daba Kar Chale Gaye Ghazal Hafeez

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل کی خلش کو دل میں دبا کر چلے گئے

وہ ہم کو اپنی یاد دلا کر چلے گئے

ہم تو بیٹھے رہے منتظرِ دیدِ جمال

پر وہ دامن بھی اپنا چھڑا کر چلے گئے

حفیظؔ محبت کی اس راہ میں کیا ملا ہمیں

غم کا اک گہرا داغ سجا کر چلے گئے

Dil Ki Khalish Ko Dil Mein Daba Kar Chale Gaye

Woh Hum Ko Apni Yaad Dila Kar Chale Gaye

Hum To Baithe Rahe Muntazir-e-Deed-e-Jamaal

Par Woh Daaman Bhi Apna Chhada Kar Chale Gaye

غزل Urdu
Comment
ابو الاثر حفیظ جالندھری
تعارفِ شاعر

ابو الاثر حفیظ جالندھری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 جنوری 1900 — 21 دسمبر 1982 📍

ابو الاثر حفیظ جالندھری (14 جنوری 1900ء – 21 دسمبر 1982ء) پاکستان کے قومی ترانے کے خالق، ممتاز ترین غزل گو، گیت نگار اور اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے منظوم شاہکار 'شاہنامہ اسلام' کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے