شاعری ہب / غزل / ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے

ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے

Hm Rshk ko Apne bhi Goara Nhin

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے

مرتے ہیں ، ولے ، اُن کی تمنا نہیں کرتے

در پردہ اُنھیں غیر سے ہے ربطِ نہانی

ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے

یہ باعثِ نومیدیِ اربابِ ہوس ہے

غالبؔ کو بُرا کہتے ہو ، اچھا نہیں کرتے

Hum rashk ko Apne bhi goara nahin karte

Mrtey hain oley an ki Tamanna nahin karte

Dar parda anhin Ghair se hai rbt-e nhani

Zahir ka yeh parda hai ke parda nahin karte

Yeh bais-e nomidi-e arbab-e havas hai

Ghalb ko bra kehte ho Achha nahin karte

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے