ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
Hm Rshk ko Apne bhi Goara Nhin
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
مرتے ہیں ، ولے ، اُن کی تمنا نہیں کرتے
در پردہ اُنھیں غیر سے ہے ربطِ نہانی
ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
یہ باعثِ نومیدیِ اربابِ ہوس ہے
غالبؔ کو بُرا کہتے ہو ، اچھا نہیں کرتے
Hum rashk ko Apne bhi goara nahin karte
Mrtey hain oley an ki Tamanna nahin karte
Dar parda anhin Ghair se hai rbt-e nhani
Zahir ka yeh parda hai ke parda nahin karte
Yeh bais-e nomidi-e arbab-e havas hai
Ghalb ko bra kehte ho Achha nahin karte
غزل
تعارفِ شاعر
مرزا غالب
مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...
