شاعری ہب / غزل / آپ نے مَسَّنی الضُّرُّ کہا ہے تو سہی

آپ نے مَسَّنی الضُّرُّ کہا ہے تو سہی

Aap Ne Msni Alzr Kha He to

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

آپ نے مَسَّنی الضُّرُّ کہا ہے تو سہی

یہ بھی اے حضرتِ ایّوب! گِلا ہے تو سہی

رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں سر

ذہن میں خوبئِ تسلیم و رضا ہے تو سہی

ہے غنیمت کہ بہ اُمّید گزر جاۓ گی عُمر

نہ ملے داد، مگر روزِ جزا ہے تو سہی

Aap Ne msni alzr kaha hai to shi

Yeh bhi aey hazrat-e aiob gla hai to shi

Ranj taqat se soa ho to na Peeton kyun sar

Zehn mein khobe taslim-o-Raza hai to shi

Hai ġanimat ke bah amid gazar ja gi amr

Na mile dad magar Roz-e jza hai to shi

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے