شاعری ہب / نظم / نہیں میرا آنچل میلا ہے

نہیں میرا آنچل میلا ہے

Nahiin Meraa Aanchal Mailaa Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

نہیں میرا آنچل میلا ہے

اور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیں

کسی ہوا نے ان کو اب تک چھونے کی جرأت نہیں کی ہے

تیری اجلی پیشانی پر

گئے دنوں کی کوئی گھڑی

پچھتاوا بن کے نہیں پھوٹی

اور میرے ماتھے کی سیاہی

تجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتی

اچھے لڑکے

مجھے نہ ایسے دیکھ

اپنے سارے جگنو سارے پھول

سنبھال کے رکھ لے

پھٹے ہوئے آنچل سے پھول گر جاتے ہیں

اور جگنو

پہلا موقع پاتے ہی اڑ جاتے ہیں

چاہے اوڑھنی سے باہر کی دھوپ کتنی ہی کڑی ہو!

Nahin Mera ãcal mila hai

Aur Teri dastar ke Sare Pech Abhi tak tikhey hain

Kisi hua Ne Un ko ab tak chhoney ki jurrat nahin ki hai

Teri Ujli Peshani par

Gaye Dinon ki Koi Ghadi

Pichhtawa ban ke nahin Phooti

Aur Mere Maathe ki siahi

Tujh se aankh mila kar Baat nahin kar skti

Achhe Ladke

Mujhe na aise dekh

Apne Sare jugnu Sare Phool

Snbhal ke rakh le

Phatte hue ãcal se Phool Gir jaate hain

Aur jugnu

Pahla Mauqa paate hi ar jaate hain

Chahe aorhni se bahar ki dhoop ktni hi kri ho

نظم
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے