شاعری ہب / غزل / درد آئے گا دبے پاؤں

درد آئے گا دبے پاؤں

Dard Aayega Dabe Paon

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

درد آئے گا دبے پاؤں شمع بجھ جائے گی

پھر کوئی خواب سحر تک نہیں آنے والا

تیرے جانے سے جو سنسان ہوئی دل کی گلی

اب وہاں کوئی مسافر نہیں آنے والا

ہم نے چاہا کہ بھلا دیں تری باتوں کا خمار

پر مئے عشق کا نشہ نہیں جانے والا

کس توقع پہ کواڑوں کو کھلا رکھا ہے

اب تو طوفانِ ستم ہی ہے ٹھہرنے والا

فیضؔ لو بجھ گئی محرابِ تمنا کی بھی

اب تو تاریک مقدر نہیں کھلنے والا

Dard aaye Ga dbey paaon Shama bjh jae gi

Phir Koi Khwab Sahar tak nahin aaney vala

Tere jaane se jo sunsaan hui Dil ki gali

Ab wahan Koi Musafir nahin aaney vala

Hum Ne chaaha ke bhla dein tri Baton ka khmar

Par Mae Ishq ka nasha nahin jaane vala

Kis Tawaqqo pe koaron ko khila rakha hai

Ab to toofan-e Sitam hi hai thhrney vala

Fiz lo bjh gi mehrab-e Tamanna ki bhi

Ab to tarik mqdr nahin khlney vala

غزل
Comment
فیض احمد فیض
تعارفِ شاعر

فیض احمد فیض

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 13 فروری 1911 — 20 نومبر 1984 📍

فیض احمد فیض (13 فروری 1911ء – 20 نومبر 1984ء) بیسویں صدی کے سب سے عظیم، بااثر اور عالمی شہرت یافتہ ترقی پسند شاعر، صحافی اور دانشور تھے۔ آپ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور بعد...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے