شاعری ہب / غزل / اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

Ab ke Hum Bichhde to Shayad Kabhi Khwabon mein Milein

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی

یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کر لو

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا

دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر

کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

اب نہ وہ میں ہوں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ

جیسے دو سایے تمنا کے سرابوں میں ملیں

Ab Ke Hum Bichhde To Shayad Kabhi Khwabon Mein Milein

Jis Tarah Sookhe Hue Phool Kitabon Mein Milein

Dhoond Ujde Hue Logon Mein Wafa Ke Moti

Yeh Khazane Tujhe Mumkin Hai Kharabon Mein Milein

Tu Khuda Hai Na Mera Ishq Farishton Jaisa

Donon Insaan Hain To Kyun Itne Hijabon Mein Milein

غزل
Comment
احمد فراز
تعارفِ شاعر

احمد فراز

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 12 جنوری 1931 — 25 اگست 2008 📍 کوہاٹ / اسلام آباد، پاکستان

سید احمد شاہ المعروف احمد فراز (12 جنوری 1931ء – 25 اگست 2008ء) پاکستان اور اردو دنیا کے سب سے مقبول، ہر دلعزیز اور رومانوی و مزاحمتی شاعری کے بے تاج بادشاہ تھے۔ آپ کوہاٹ...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے