باوقار بڑھاپا (بزرگوں کی نگہداشت)

بڑھاپے میں سونگھنے اور چکھنے کی حس میں کمی: بزرگوں کی بھوک اور خوراک کی رغبت بڑھانے کے طریقے

بزرگوں اور سننے کے شوقین قارئین کے لیے قدرتی اردو آڈیو
بڑھاپے میں سونگھنے اور چکھنے کی حس میں کمی: بزرگوں کی بھوک اور خوراک کی رغبت بڑھانے کے طریقے

اکثر بوڑھے والدین شکایت کرتے ہیں کہ 'کھانے میں کوئی ذائقہ نہیں رہا' اور وہ آدھی روٹی بھی بمشکل کھاتے ہیں۔ جانیے حواس کی کمزوری کی سائنسی حقیقت اور قدرتی جڑی بوٹیوں سے بھوک چمکانے کے راز۔

ذائقہ اور خوشبو کیوں ختم ہو جاتی ہے؟

زبان پر موجود ذائقے کے غدود (Taste Buds) اور ناک کے سونگھنے والے ریسیپٹرز 60 سال کی عمر کے بعد آدھے رہ جاتے ہیں۔ سب سے پہلے نمک اور میٹھے کا احساس مدہم پڑتا ہے، جس کی وجہ سے کھانا پھیکا اور بے مزہ لگنے لگتا ہے اور بزرگ کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔

بھوک کی کمی کے خطرات

جب بزرگ بھوک کی کمی کے باعث کم کھانا شروع کرتے ہیں تو ان کا وزن گرنے لگتا ہے، مدافعتی نظام کمزور ہو جاتا ہے اور وہ انیمیا (خون کی کمی) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس سے ان کی روزمرہ توانائی ختم ہو جاتی ہے۔

کھانے کو لذیذ اور پرکشش بنانے کے گر

نمک اور چینی بڑھانے کی بجائے قدرتی مصالحے استعمال کریں:

  • کھانے میں تازہ لیموں کا رس، انار دانہ، یا املی کی ہلکی کھٹاس شامل کریں جو تھوک اور بھوک کو ابھارتی ہے۔
  • خوشبودار جڑی بوٹیاں جیسے پودینہ، ہرا دھنیا، کالی مرچ اور زیرہ استعمال کریں جو ناک کے غدود کو تحریک دیتے ہیں۔
  • کھانے کو خوبصورت رنگوں والی پلیٹ میں پیش کریں؛ مختلف رنگوں کی سبزیاں (گاجر، مٹر، مکئی) دیکھ کر کھانے کی رغبت بڑھتی ہے۔
  • کھانے کے وقت خوشگوار گفتگو کریں اور انہیں اکیلے کھانے کی بجائے فیملی کے ساتھ بٹھائیں۔

زنک (Zinc) کی کمی کی جانچ

طبی طور پر زنک کی کمی ذائقہ ختم کرنے کی بڑی وجہ ہے۔ ڈاکٹر کے مشورے سے ملٹی وٹامنز یا زنک کا شربت دینے سے چند ہی دنوں میں چکھنے کی حس بحال ہو جاتی ہے۔

یہ مفید معلومات شیئر کریں:
پچھلا مضمون جسمانی درد، اکڑن اور دورانِ خون کے لیے... اگلا مضمون موسمِ سرما اور گرمیوں میں بزرگوں کے جسم...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے