اکثر بزرگ اپنے دن کے 18 سے 20 گھنٹے اپنے کمرے میں گزارتے ہیں۔ جانیے ان کے کمرے کو کس طرح ایک پرسکون، روشن اور محفوظ جنت میں بدلا جا سکتا ہے تاکہ وہ گھٹن اور اداسی سے محفوظ رہیں۔
کمرے کا ماحول اور بزرگوں کا موڈ
اندھیرا، گھٹن زدہ اور سامان سے اٹا ہوا کمرہ بزرگوں میں وہم، خوف اور ڈپریشن پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایک روشن، ہوا دار اور صاف ستھرا کمرہ ان کی روح کو تازگی بخشتا ہے اور بیماریوں سے لڑنے کی قوت بڑھاتا ہے۔
روشنی اور وینٹیلیشن کے اصول
کمرے میں روشنی کا ایسا انتظام رکھیں:
- صبح کے وقت کھڑکیاں کھولیں تاکہ تازہ ہوا اور قدرتی دھوپ کمرے میں داخل ہو کر جراثیم کا خاتمہ کرے۔
- کمرے میں گلیئر (چبھنے والی روشنی) پیدا کرنے والے بلب نہ لگائیں بلکہ نرم دودھیا (Warm White) بلب استعمال کریں۔
- رات کے لیے مدہم نائٹ لائٹ واش روم کے دروازے کے قریب لگائیں۔
دیواروں کے پرسکون رنگ
نفسیاتی تحقیق کے مطابق دیواروں پر گہرے یا بھڑکیلے رنگ اینگزائٹی بڑھاتے ہیں:
- ہلکا آسمانی، ہلکا پستہ، یا آف وائٹ رنگ کمرے کو کشادہ اور دل کو پرسکون رکھتا ہے۔
- کمرے میں ایک ایسی کھڑکی ہونی چاہیے جہاں سے وہ باہر باغیچے کے درخت، پرندے یا گلی کے مناظر دیکھ سکیں۔
ضروری اشیاء کی پہنچ
بیڈ کے بالکل برابر والی سائیڈ ٹیبل پر پانی کا تھرماس، گلاس، عینک، تسبیح، ٹشو پیپر اور کالنگ بیل ہر وقت موجود ہونی چاہیے تاکہ انہیں اٹھ کر بھٹکنا نہ پڑے۔
