باوقار بڑھاپا (بزرگوں کی نگہداشت)

بزرگوں کے ساتھ باوقار گفتگو کا ہنر: اونچی آواز کی بجائے نرمی، صبر اور سماعت کا ادب

بزرگوں اور سننے کے شوقین قارئین کے لیے قدرتی اردو آڈیو
بزرگوں کے ساتھ باوقار گفتگو کا ہنر: اونچی آواز کی بجائے نرمی، صبر اور سماعت کا ادب

جب بزرگ بات بار بار دہرائیں یا کم سنیں تو چیخنے یا تلخ ہونے سے ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ جانیے وہ 6 جادوئی کمیونیکیشن اصول جو والدین کے ساتھ آپ کے رشتے کو محبت کی نئی معراج پر لے جائیں گے۔

لہجے کی تاثیر اور دل پر وار

بڑھاپے میں انسان الفاظ سے زیادہ آپ کے چہرے کے تاثرات اور لہجے کے اتار چڑھاؤ کو محسوس کرتا ہے۔ ایک سرسری جھنجھلاہٹ یا ٹھنڈا جواب ان کے ذہن میں یہ خوف بٹھا دیتا ہے کہ وہ گھر میں غیر مطلوب ہو چکے ہیں۔

کامیاب گفتگو کے 6 سنہری اصول

والدین سے بات کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں:

  1. ان کے برابر بیٹھ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں (Eye Level Contact)۔
  2. اگر وہ کم سنتے ہیں تو اونچی آواز میں چیخنے کی بجائے اپنا لہجہ بھاری اور الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر بولیں۔
  3. موبائل فون سائیڈ پر رکھ کر پوری توجہ دیں؛ سر ہلا کر ان کی بات کی تصدیق کریں۔
  4. اگر وہ ایک ہی پرانا قصہ دسویں بار سنا رہے ہوں، تب بھی مسکرا کر سنیں جیسے پہلی بار سن رہے ہوں۔
  5. ان کے جملے خود سے مکمل نہ کریں اور نہ ہی ان پر جلد بازی کا مظاہرہ کریں۔
  6. گفتگو کا اختتام ہمیشہ دعا یا محبت بھرے جملے پر کریں۔

منفی جملوں سے مکمل پرہیز

یہ جملے کبھی اپنی زبان پر نہ لائیں:

  • 'میں نے آپ کو ہزار بار سمجھایا ہے!'
  • 'آپ ہر بات بھول جاتے ہیں!'
  • 'اب آپ خاموش رہیں، یہ آج کل کے دور کی بات ہے!'

ان منفی جملوں کی جگہ کہیں: 'امی جی آپ صحیح فرما رہی ہیں، آئیے مل کر دیکھتے ہیں'۔

محبت بھرا لمس (Healing Touch)

بات کرتے وقت والد کے کندھے پر یا والدہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھنا دوا سے زیادہ سکون بخشتا ہے۔ جسمانی لمس بزرگوں کے اندر تحفظ اور قربت کا احساس بیدار کرتا ہے۔

یہ مفید معلومات شیئر کریں:
پچھلا مضمون بوڑھے والدین کے بیڈ روم کا مثالی ماحول:... اگلا مضمون 60 سال سے زائد عمر کے افراد کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے