جب بزرگ اونچا سننے لگتے ہیں تو وہ شرمندگی کی وجہ سے گفتگو میں حصہ لینا چھوڑ دیتے ہیں جس سے ان میں تنہائی اور ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جانیے سماعت کی معاونت اور بات چیت کے آداب۔
پریسبائیکیوسس (عمر رسیدہ بہرہ پن) کی وجوہات
کان کے اندرونی حصے (Cochlea) میں موجود باریک حسی بال عمر کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں جس سے تیز پچ والی آوازیں (جیسے خواتین اور بچوں کی آواز) سننا اور سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے جس کا تعلق نسوں کی کمزوری سے ہے۔
سماعت کی کمی کے نفسیاتی اثرات
جو بزرگ اونچا سنتے ہیں وہ محفل میں مذاق اڑنے یا بار بار پوچھنے کی خفت سے بچنے کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ غیر علاج شدہ بہرہ پن بزرگوں میں یادداشت کی بیماری (ڈیمنشیا) کے خطرے کو 40 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔
کم سننے والے بزرگوں سے بات کرنے کے سلیقے
ان پر چیخنے کی بجائے درج ذیل اصول اپنائیں:
- ان کے سامنے آمنے سامنے ہو کر بات کریں تاکہ وہ آپ کے ہونٹوں کی حرکات دیکھ سکیں۔
- آواز اونچی کرنے کی بجائے اپنے الفاظ دھیمے اور ٹھہر ٹھہر کر ادا کریں۔
- بیک گراؤنڈ میں ٹی وی یا ریڈیو کی آواز بند کر کے بات کریں۔
- اگر وہ بات نہ سمجھیں تو جھنجھلانے کی بجائے آسان متبادل الفاظ میں بات دہرائیں۔
جدید ہیرنگ ایڈز (آلۂ سماعت) کا انتخاب
آج کل ڈیجیٹل اور کان کے اندر چھپ جانے والے انتہائی حساس ہیرنگ ایڈز دستیاب ہیں جو شور کو فلٹر کر کے صاف آواز سناتے ہیں۔ بزرگوں کو ہیرنگ ایڈ لگانے پر آمادہ کرنا ان کی زندگی میں دوبارہ خوشیاں بھر دیتا ہے۔
