بزرگ والدین کے میڈیکل چیک اپ کے لیے کسی تکلیف یا درد کے پیدا ہونے کا انتظار کرنا خطرناک غلطی ہے۔ کئی جان لیوا عوارض جیسے گردوں کی خرابی، خاموش اینیمیا اور الیکٹرولائٹس کا بگاڑ صرف ایک سادہ خون کے ٹیسٹ سے بروقت پکڑے جا سکتے ہیں۔
ہر ۶ ماہ بعد کروائے جانے والے ۷ لازمی ٹیسٹ
- مکمل خون کا معائنہ (CBC): یہ ہیموگلوبن کی سطح دکھاتا ہے۔ بزرگوں میں خاموش اینیمیا چڑچڑاپن اور کمزوری کی بنیادی وجہ ہوتا ہے۔
- سیرم کریٹینین اور یوریا (RFTs): گردوں کی فلٹریشن کی صلاحیت جانچنے کا سب سے اہم ٹیسٹ۔ ذیابیطس کے مریضوں میں گردوں کا ورم جلد ظاہر نہیں ہوتا۔
- سیرم الیکٹرولائٹس (Sodium & Potassium): بزرگوں میں سوڈیم کا گرنا (Hyponatremia) اچانک بے ہوشی، غنودگی اور یادداشت کھونے کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔
- ایچ بی اے ون سی (HbA1c): گزشتہ تین ماہ کے شوگر کنٹرول کا ریکارڈ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ آیا ادویات مناسب ہیں یا نہیں۔
- لیور فنکشن ٹیسٹ (LFTs): جگر کے اینزائمز اور البیومن پروٹین کی مقدار، جو پٹھوں کی طاقت کا اشاریہ ہے۔
- وٹامن ڈی۳ اور بی۱۲ (Vitamin D & B12): بی۱۲ کی کمی ڈیمنشیا اور پیروں کے سن ہونے کا باعث بنتی ہے، جبکہ وٹامن ڈی ہڈیوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
- پیشاب کا تفصیلی معائنہ (Urine R/E): بزرگوں میں پیشاب کی نالی کا انفیکشن (UTI) اکثر بخار کے بغیر صرف ذہنی الجھن اور ہذیان کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
رپورٹس کا موازنہ اور فائلنگ کا طریقہ
ہمیشہ پچھلے سال کی تمام رپورٹس ایک فائل میں تاریخ وار محفوظ رکھیں۔ ڈاکٹر کو محض ایک موجودہ رپورٹ دکھانے کے بجائے پچھلے چھ ماہ کا رجحان (Trend) دکھائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ گردوں یا خون کی قدریں کس سمت جا رہی ہیں۔
