بڑھاپے میں اکثر جان لیوا بیماریاں خاموشی سے حملہ آور ہوتی ہیں۔ جانیے وہ 7 اہم ترین لیبارٹری اور کلینیکل ٹیسٹ جو سال میں ایک بار کروا کر بوڑھے والدین کو بڑے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
باقاعدہ ہیلتھ اسکریننگ کی اہمیت
60 سال کی عمر کے بعد جسم کا مدافعتی اور خودکار مرمتی نظام سست ہو جاتا ہے۔ اکثر فشارِ خون (ہائی بی پی)، شوگر، اور گردوں کے مسائل اس وقت تک کوئی علامت نہیں دکھاتے جب تک 50 فیصد نقصان نہ ہو جائے۔ سالانہ ٹیسٹس بیماریوں کو ابتدائی مرحلے میں پکڑ لیتے ہیں۔
لازمی 7 ٹیسٹس کی تفصیلی فہرست
ہر بزرگ کے لیے درج ذیل ٹیسٹس لازمی ہیں:
- فاسٹنگ بلڈ شوگر اور HbA1c: پچھلے 3 ماہ کے دوران شوگر کی اوسط سطح جانچنے کے لیے۔
- لپڈ پروفائل (Lipid Profile): کولیسٹرول اور ٹرائی گلسرائڈز تاکہ دل کے دورے اور فالج سے بچا جا سکے۔
- گردوں کے افعال کا ٹیسٹ (RFTs – Serum Creatinine & Urea): گردوں کی فلٹریشن کی صلاحیت دیکھنے کے لیے۔
- جگر کے افعال (LFTs): ادویات کے جگر پر اثرات جانچنے کے لیے۔
- ہڈیوں کا ڈیکسا اسکین (DEXA Scan): آسٹیوپوروسس اور فریکچر کے خطرے کی پیمائش کے لیے۔
- سی بی سی (Complete Blood Count): خون کی کمی (انیمیا) اور اندرونی انفیکشن کی جانچ۔
- مردوں کے لیے PSA ٹیسٹ: پروسٹیٹ کے غدود کے کینسر اور ورم کی بروقت تشخیص۔
آنکھوں اور کانوں کا معائنہ
خون کے ٹیسٹس کے علاوہ سال میں ایک بار آنکھوں کے پردے (Fundoscopy) اور کالا موتیا (Glaucoma/Eye Pressure) چیک کروائیں۔ اسی طرح قوتِ سماعت کا ٹیسٹ کروائیں تاکہ ان کا رابطہ خاندان سے نہ ٹوٹے۔
میڈیکل ریکارڈ محفوظ رکھنے کی گائیڈ
بزرگوں کی تمام پرانی رپورٹس، ادویات کے نسخے اور ڈاکٹروں کے نوٹس ایک صاف فائل میں تاریخ وار ترتیب دیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں یہ فائل فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھانے سے غلط ادویات کے خطرے سے بچا جا سکتا ہے۔
