باوقار بڑھاپا (بزرگوں کی نگہداشت)

بزرگوں میں پانی کی کمی (Dehydration) کے خاموش خطرات اور ہائیڈریشن سنبھالنے کا طریقہ

بزرگوں اور سننے کے شوقین قارئین کے لیے قدرتی اردو آڈیو
بزرگوں میں پانی کی کمی (Dehydration) کے خاموش خطرات اور ہائیڈریشن سنبھالنے کا طریقہ

بزرگوں کو پیاس کا احساس بہت کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جانے انجانے شدید پانی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں جو ذہنی الجھن اور گردے فیل ہونے کا سبب بنتی ہے۔ جانیے اس کے تدارک کے طریقے…

بڑھاپے میں پیاس کا احساس کیوں ختم ہو جاتا ہے؟

دماغ کے ہائپوتھیلمس میں پیاس کی گھنٹی بجانے والے سینسرز عمر کے ساتھ سست پڑ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بزرگ افراد رات کو بار بار واش روم جانے کے خوف سے جان بوجھ کر پانی پینا کم کر دیتے ہیں، جو کہ انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

پانی کی کمی کی پوشیدہ اور ہنگامی علامات

بزرگوں میں ڈی ہائیڈریشن کی علامات عام لوگوں سے مختلف ہوتی ہیں:

  • اچانک ذہنی الجھن، چڑچڑاپن یا بے ربط باتیں کرنا۔
  • پیشاب کا رنگ گہرا زرد یا بدبودار ہونا اور مقدار بہت کم ہو جانا۔
  • منہ، زبان اور ہونٹوں کا سوکھ جانا اور آنکھوں کا اندر دھنس جانا۔
  • جلد کی لچک ختم ہونا (ہاتھ کی جلد اوپر کھینچنے پر فوری واپس نہ بیٹھنا)۔
  • بلڈ پریشر کا اچانک گرنا اور کھڑے ہونے پر غشی طاری ہونا۔

بزرگوں کو پانی پلانے کی عملی تدابیر

انہیں ایک ساتھ بڑا گلاس پینے پر مجبور نہ کریں بلکہ:

  • ہر ایک گھنٹے بعد چھوٹا آدھا کپ نیم گرم پانی یا عرق گلاب ملا پانی پیش کریں۔
  • پانی کے علاوہ پتلی لسی، یخنی، کھیرے کے قتلے اور تربوز یا سیب کے رس سے پانی کی کمی پوری کریں۔
  • ان کے بیڈ کے پاس ہلکی بوتل رکھیں جس پر گھنٹوں کے نشانات لگے ہوں۔

گردوں کی حفاظت اور ڈاکٹر سے فوری رابطہ

اگر بزرگ 8 گھنٹے تک پیشاب نہ کریں، شدید سستی میں چلے جائیں یا نبض تیز ہو جائے تو یہ ایکیوٹ کڈنی انجری (AKI) ہو سکتی ہے، جس کے لیے فوری ہسپتال میں ڈرپ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ مفید معلومات شیئر کریں:
پچھلا مضمون 60 سال کی عمر کے بعد وہ 7... اگلا مضمون پیشاب کی بے قاعدگی اور مثانے کی کمزوری...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے