ہڈیوں کے بھربھرے پن (Osteoporosis) کے باعث بزرگوں میں معمولی سا پھسلنا بھی کولہے کے جوڑ (Hip Joint) کو فریکچر کر دیتا ہے۔ طب کی دنیا میں کولہے کا فریکچر محض ایک ہڈی کا ٹوٹنا نہیں بلکہ مریض کی بقا کا امتحان ہوتا ہے، جس میں فوری اور درست فیصلہ بازی ازحد ضروری ہے۔
گرنے کے بعد فریکچر کی فوری پہچان
اگر کوئی بزرگ گر پڑے اور درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو انہیں زبردستی اٹھانے کی ہرگز کوشش نہ کریں:
- متاثرہ ٹانگ کا چھوٹا نظر آنا: ٹوٹی ہوئی سائیڈ کی ٹانگ دوسری ٹانگ کے مقابلے میں کچھ انچ چھوٹی لگتی ہے۔
- پاؤں کا باہر کی طرف مڑ جانا (External Rotation): مریض کا پاؤں اور پنجہ فطری طور پر باہر کی جانب ڈھل جاتا ہے۔
- کولہے یا ران کے جوڑ میں شدید درد: معمولی حرکت دینے یا پیر پر بوجھ ڈالنے پر شدید چیخ نکل جانا۔
- کھڑا ہونے سے مکمل معذوری: مریض اپنے پیر پر ایک سیکنڈ کے لیے بھی وزن برداشت نہیں کر سکتا۔
ہسپتال منتقل کرنے اور سرجری کا سنہری اصول (۴۸ گھنٹے)
عالمی آرتھوپیڈک ایسوسی ایشن کے مطابق، بزرگوں کے کولہے کے فریکچر کا آپریشن ابتدائی ۲۴ سے ۴۸ گھنٹوں کے اندر ہو جانا چاہیے۔ اگر خاندان "بزرگ ہیں، آپریشن برداشت نہیں کریں گے” کہہ کر تاخیر کرے تو بستر پر مسلسل پڑے رہنے سے نمونیا، بیڈ سورز اور خون کی نالیوں میں کلاٹس (DVT) بن جاتے ہیں جو جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ سرجری ہڈی جوڑنے یا نیا جوڑ لگانے (Hemiarthroplasty) سے مریض کو اگلے ہی دن بستر پر بٹھانے کے قابل بنا دیتی ہے۔
سرجری کے بعد فزیوتھراپی اور بحالی کا عمل
آپریشن کے بعد دوسرے دن سے واکر کے سہارے چند قدم چلانا ضروری ہے۔ گھر میں کموڈ کی اونچائی بڑھانے والی سیٹ (Raised Toilet Seat) لگائیں تاکہ کولہے کا زاویہ ۹۰ درجے سے زیادہ نہ مڑے۔ کیلشیم، وٹامن ڈی۳ اور پروٹین سے بھرپور یخنی اور دلیہ ہڈی کی فوری جڑائی کے لیے روزانہ دیں۔
