شاعری ہب / غزل / حسنِ بے پروا کو دل میں بسا کر دیکھیے

حسنِ بے پروا کو دل میں بسا کر دیکھیے

Husn-e-Be-Parwah ko Dil mein Basa Kar Dekhiye Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

حسنِ بے پروا کو دل میں بسا کر دیکھیے

زندگی کی راہ کو گلزار بنا کر دیکھیے!

ہم نے تو اپنے دل کو اک آئینہ بنا دیا

آپ بھی تری دید کا جلوہ سجا کر دیکھیے!

اخترؔ عشق کے سودے میں خسارہ نہیں کوئی

اس راہ میں سر کی بازی لگا کر دیکھیے!

Husn-e-Be-Parwah Ko Dil Mein Basa Kar Dekhiye

Zindagi Ki Raah Ko Gulzaar Bana Kar Dekhiye!

Hum Ne To Apne Dil Ko Ik Aayina Bana Diya

Aap Bhi Teri Deed Ka Jalwa Saja Kar Dekhiye!

غزل Urdu
Comment
اختر شیرانی
تعارفِ شاعر

اختر شیرانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 4 مئی 1905 — 9 ستمبر 1948 📍 ٹونک (راجستھان) / لاہور، پاکستان

محمد داؤد خان المعروف اخترؔ شیرانی (4 مئی 1905ء – 9 ستمبر 1948ء) اردو شاعری میں رومانوی تحریک کے سب سے عظیم سرخیل، مصورِ حسن و شباب اور 'شہنشاہِ رومان' مانے جاتے ہیں۔ آپ ٹونک...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے