شاعری ہب / غزل / حسن کو بے حجاب ہونا تھا

حسن کو بے حجاب ہونا تھا

Husn ko Be-Hijaab Hona Tha Ghazal Majaz

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

حسن کو بے حجاب ہونا تھا

شوق کو کامیاب ہونا تھا!

ہو گئیں سرخ بزم کی شمعیں

موسمِ مے گلاب ہونا تھا!

ہم نے تو اپنے دل کو نثار کر دیا

جسے تری دید کا جواب ہونا تھا!

مجازؔ اس عاشقی کے کارواں کا کیا بنے

جسے عشق میں لاجواب ہونا تھا!

Husn Ko Be-Hijaab Hona Tha

Shauq Ko Kaamyaab Hona Tha!

Ho Gayin Surkh Bazm Ki Shama'ein

Mausam-e-May Gulaab Hona Tha!

Hum Ne To Apne Dil Ko Nisaar Kar Diya

Jise Teri Deed Ka Jawaab Hona Tha!

غزل Urdu
Comment
اسرار الحق مجاز لکھنوی
تعارفِ شاعر

اسرار الحق مجاز لکھنوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 19 اکتوبر 1911 — 5 دسمبر 1955 📍

اسرار الحق خان المعروف مجازؔ لکھنوی (19 اکتوبر 1911ء – 5 دسمبر 1955ء) اردو شاعری کی تاریخ کے سب سے پرکشش، رومان پرور، کیف آور اور نوجوان نسل کے محبوب ترین شاعر تھے جنہیں ناقدین...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے