شاعری ہب / غزل / وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

Wo to Khush Bu Hai Havaon Men Bikhar Jaega

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا

کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا

وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے

ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا

وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے

موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا

آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی

تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث

جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا

Wo To Khushboo Hai Havaaon Men Bikhar Jaaye Ga

Masla Phool Ka Hai Phool Kidhar Jaaye Ga

Ham To Samjhe The Ke Ek Zakhm Hai Bhar Jaaye Ga

Kya Khabar Thi Ke Rag-E-Jaan Men Utar Jaaye Ga

Wo Havaaon Ki Tarah Khaana Bajaan Phirtaa Hai

Ek Jhonkaa Hai Jo Aaye Ga Guzar Jaaye Ga

Wo Jab Aaye Ga To Phir Us Ki Rafaaqat Ke Liye

Mausam-E-Gul Mere Aangan Men Thahar Jaaye Ga

Aakhirash Wo Bhi Kahin Ret Pe Baithi Hogi

Tera Ye Pyaar Bhi Dariyaa Hai Utar Jaaye Ga

غزل Urdu
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے