شاعری ہب / غزل / ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

Tuti Hai Meri Nind Magar Tum ko Is se Kya

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

بجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا

تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو

کٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ

میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا

ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرض

سیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا

لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدو

تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا

تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے

تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا

Tooti Hai Meri Neend Magar Tum Ko Is Se Kya

Bajte Rahen Hawaaon Se Dar Tum Ko Is Se Kya

Tum Mauj Mauj Misl-E-Saba Ghoomti Raho

Kat Jaayen Meri Soch Ke Par, Tum Ko Is Se Kya

Auron Ka Hath Thaamo, Unhen Rasta Dikhaao

Mein Bhool Jaaun Apna Hi Ghar, Tum Ko Is Se Kya

Le Jaayen Mujhe Maal-E-Ghaneemat Ke Saath Adoo

Tum Ne To Daal Di Hai Sapar, Tum Ko Is Se Kya

Tum Ne To Thak Ke Dasht Mein Kheme Laga Liye

Tanha Kate Kisi Ka Safar,Tum Ko Is Se Kya

غزل Urdu
Comment
پروین شاکر
تعارفِ شاعر

پروین شاکر

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 نومبر 1952 — 26 دسمبر 1994 📍 کراچی، پاکستان

پروین شاکر (24 نومبر 1952ء – 26 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی صفِ اول کی عظیم شاعرہ، ادیبہ اور معلمہ تھیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔ پروین شاکر کو نسائی احساسات اور نازک جذبوں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے