شاعری ہب / غزل / دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ

دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ

Duniya Ne Kis ka Raah-e-Fana mein Diya Hai Saath Ghazal Zauq

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ

تم بھی چلے چلو یوں ہی جب تک چلی چلے!

موت برحق ہے اور یہ فانی جہاں اک خواب ہے

جو مسافر ہے وہی اس راہ میں بھلی چلے!

ذوقؔ نیکی کا ہی سودا کر لو اس بازار میں

جس سے قبر کے اندھیروں میں بھی روشنی چلے!

Duniya Ne Kis Ka Raah-e-Fana Mein Diya Hai Saath

Tum Bhi Chale Chalo Yun Hi Jab Tak Chali Chale!

Maut Bar-Haq Hai Aur Yeh Faani Jahan Ik Khwab Hai

Jo Musafir Hai Wohi Is Raah Mein Bhali Chale!

غزل Urdu
Comment
شیخ محمد ابراہیم ذوق
تعارفِ شاعر

شیخ محمد ابراہیم ذوق

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 22 اگست 1789 — 16 نومبر 1854 📍

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ (22 اگست 1789ء – 16 نومبر 1854ء) اردو زبان کے سب سے پرشکوہ، فصیح البیان اور قادر الکلام کلاسیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہیں قلعۂ معلیٰ دہلی میں 'ملک الشعراء'...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔