زہرا نگاہ
Zehra Nigah
Classical
14 مئی 1937-حیات (Living Legend)
حیدر آباد دکن / کراچی, پاکستان
سیدہ زہرا نگاہ (پیدائش: 14 مئی 1937ء) اردو ادب کی تاریخ میں نسائی وقار، دلکش ترنم، کلاسیکی شائستگی اور گہرے سماجی شعور کی سب سے معتبر اور مقبول ترین شاعرہ ہیں۔ آپ حیدر آباد دکن میں بدایوں کے نامور علمی خانوادے میں پیدا ہوئیں (فاطمہ ثریا بجیا، صہبا اختر اور انور مقصود آپ کے بہن بھائی ہیں)۔ زہرا نگاہ نے 1950ء کی دہائی میں مشاعروں کی دنیا میں قدم رکھا اور اپنے سحر انگیز ترنم، حیا دار لہجے اور کلاسکیت سے بھرپور غزلوں کے ذریعے سامعین کو گرویدہ بنا لیا۔ ان کی شاہکار نظمیں بالخصوص 'شام کا پہلا تارا'، 'سمجھوتہ'، 'وعدہ'، 'گلبادشاہ' اور 'میں بچ گئی ماں' انسانی جذبات، عورت کے کرب اور سماجی المیوں کے لازوال نوحے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance - 2006ء) اور ہلالِ امتیاز (2013ء) سے نوازا۔ ان کے شعری مجموعوں میں 'شام کا پہلا تارا'، 'ورق' اور 'فراق' شامل ہیں۔
یہ ہاتھ کہ جن میں وفاؤں کے چراغ روشن ہیں
ان ہاتھوں سے کبھی کسی کا دل نہ دکھایا ہم نے
Yeh Haath Ke Jin Mein Wafaon Ke Chiraagh Roshan Hain
Un Haathon Se Kabhi Kisi Ka Dil Na Dikhaya Hum Ne
شبِ فراق کا موسم بدل گیا شاید
کہ اب دل کو ترے غم سے بھی سکون ملتا ہے
Shab-e-Firaq Ka Mausam Badal Gaya Shayad
Ke Ab Dil Ko Tere Gham Se Bhi Sukoon Milta Hai
خاموشی سے ہر ستم کو سہتے چلے گئے ہم
کہ وفا کے وقار کو داغدار نہ ہونے دیا
Khamoshi Se Har Sitam Ko Sehte Chale Gaye Hum
Ke Wafa Ke Waqaar Ko Daaghdaar Na Hone Diya
صبحِ امید کا دیا جلائے رکھا ہم نے
تا کہ اندھیروں میں بھی حق کی راہ نظر آئے
Subh-e-Umeed Ka Diya Jalaaye Rakha Hum Ne
Ta Ke Andheron Mein Bhi Haq Ki Raah Nazar Aaye
شام کا پہلا تارا دیکھا اور ترے ملنے کی دعا مانگی
دل نے اک بار پھر تری دید کی حسرت کر لی
Shaam Ka Pehla Taara Dekha Aur Tere Milne Ki Dua Maangi
Dil Ne Ik Baar Phir Teri Deed Ki Hasrat Kar Li
سمجھوتہ کر لیا ہے ہم نے زمانے کے ستم سے
پر دل میں خوابوں کی شمع سدا جلتی رہے گی
Samjhauta Kar Liya Hai Hum Ne Zamane Ke Sitam Se
Par Dil Mein Khwabon Ki Shama Sada Jalti Rahe Gi
آنے کا وعدہ کر کے نہ آنا ترے شایانِ شان نہیں
ہم نے تو پلکوں پہ انتظار کے دیپ جلائے رکھے
Aane Ka Waada Kar Ke Na Aana Tere Shaayan-e-Shaan Nahin
Hum Ne To Palkon Pe Intezaar Ke Deep Jalaaye Rakhe
ہم بھی وہاں تھے پر ہم سے پوچھا نہ گیا کچھ
بزمِ رقیب میں ہمارا تذکرہ ہی نہ رہا
Hum Bhi Wahan The Par Hum Se Poochha Na Gaya Kuchh
Bazm-e-Raqeeb Mein Hamara Tazkira Hi Na Raha
