شاعری ہب / نظم / سمجھوتہ (شاہکار نسائی نظم)

سمجھوتہ (شاہکار نسائی نظم)

Samjhauta Nazm Zehra Nigah

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ ہاتھ کہ جس نے خواب بنے تھے پیار کے

آج زمانے کے رسم و رواج سے سمجھوتہ کر بیٹھے!

ہم نے تو اپنے آنسوؤں کو پلکوں کے پیچھے چھپا لیا

اور ہونٹوں پہ اک معصوم مسکان سجا لی!

زہراؔ عورت کے اس صبر اور قربانی کا کیا کہیے

جس نے ہر طوفان میں اپنے وقار کو قائم رکھا!

Yeh Haath Ke Jis Ne Khwab Bune The Pyaar Ke

Aaj Zamane Ke Rasm-o-Riwaj Se Samjhauta Kar Baithe!

Hum Ne To Apne Aansoon Ko Palkon Ke Peeche Chhupa Liya

Aur Honton Pe Ik Maasoom Muskaan Saja Li!

نظم Urdu
Comment
زہرا نگاہ
تعارفِ شاعر

زہرا نگاہ

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 14 مئی 1937 — حیات (Living Legend) 📍

سیدہ زہرا نگاہ (پیدائش: 14 مئی 1937ء) اردو ادب کی تاریخ میں نسائی وقار، دلکش ترنم، کلاسیکی شائستگی اور گہرے سماجی شعور کی سب سے معتبر اور مقبول ترین شاعرہ ہیں۔ آپ حیدر آباد دکن...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے