سمجھوتہ (شاہکار نسائی نظم)
Samjhauta Nazm Zehra Nigah
یہ ہاتھ کہ جس نے خواب بنے تھے پیار کے
آج زمانے کے رسم و رواج سے سمجھوتہ کر بیٹھے!
ہم نے تو اپنے آنسوؤں کو پلکوں کے پیچھے چھپا لیا
اور ہونٹوں پہ اک معصوم مسکان سجا لی!
زہراؔ عورت کے اس صبر اور قربانی کا کیا کہیے
جس نے ہر طوفان میں اپنے وقار کو قائم رکھا!
Yeh Haath Ke Jis Ne Khwab Bune The Pyaar Ke
Aaj Zamane Ke Rasm-o-Riwaj Se Samjhauta Kar Baithe!
Hum Ne To Apne Aansoon Ko Palkon Ke Peeche Chhupa Liya
Aur Honton Pe Ik Maasoom Muskaan Saja Li!
نظم
Urdu
تعارفِ شاعر
زہرا نگاہ
سیدہ زہرا نگاہ (پیدائش: 14 مئی 1937ء) اردو ادب کی تاریخ میں نسائی وقار، دلکش ترنم، کلاسیکی شائستگی اور گہرے سماجی شعور کی سب سے معتبر اور مقبول ترین شاعرہ ہیں۔ آپ حیدر آباد دکن...
