شاعری ہب / غزل / خاموشی سے ہر ستم کو سہتے چلے گئے

خاموشی سے ہر ستم کو سہتے چلے گئے

Khamoshi se Har Sitam ko Sehte Chale Gaye Zehra

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی سے ہر ستم کو سہتے چلے گئے ہم

کہ وفا کے وقار کو داغدار نہ ہونے دیا!

ہم نے تو اپنے آنسوؤں سے مٹی کو سینچا

اور دل کے گلستان کو ویران نہ ہونے دیا!

زہراؔ سچائی کی فتح سدا لازمی ہے

جس نے باطل کے آگے سر کو جھکنے نہ دیا!

Khamoshi Se Har Sitam Ko Sehte Chale Gaye Hum

Ke Wafa Ke Waqaar Ko Daaghdaar Na Hone Diya!

Hum Ne To Apne Aansoon Se Mitti Ko Seencha

Aur Dil Ke Gulistan Ko Weeraan Na Hone Diya!

غزل Urdu
Comment
زہرا نگاہ
تعارفِ شاعر

زہرا نگاہ

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 14 مئی 1937 — حیات (Living Legend) 📍

سیدہ زہرا نگاہ (پیدائش: 14 مئی 1937ء) اردو ادب کی تاریخ میں نسائی وقار، دلکش ترنم، کلاسیکی شائستگی اور گہرے سماجی شعور کی سب سے معتبر اور مقبول ترین شاعرہ ہیں۔ آپ حیدر آباد دکن...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے