خاموشی سے ہر ستم کو سہتے چلے گئے
Khamoshi se Har Sitam ko Sehte Chale Gaye Zehra
خاموشی سے ہر ستم کو سہتے چلے گئے ہم
کہ وفا کے وقار کو داغدار نہ ہونے دیا!
ہم نے تو اپنے آنسوؤں سے مٹی کو سینچا
اور دل کے گلستان کو ویران نہ ہونے دیا!
زہراؔ سچائی کی فتح سدا لازمی ہے
جس نے باطل کے آگے سر کو جھکنے نہ دیا!
Khamoshi Se Har Sitam Ko Sehte Chale Gaye Hum
Ke Wafa Ke Waqaar Ko Daaghdaar Na Hone Diya!
Hum Ne To Apne Aansoon Se Mitti Ko Seencha
Aur Dil Ke Gulistan Ko Weeraan Na Hone Diya!
غزل
Urdu
تعارفِ شاعر
زہرا نگاہ
سیدہ زہرا نگاہ (پیدائش: 14 مئی 1937ء) اردو ادب کی تاریخ میں نسائی وقار، دلکش ترنم، کلاسیکی شائستگی اور گہرے سماجی شعور کی سب سے معتبر اور مقبول ترین شاعرہ ہیں۔ آپ حیدر آباد دکن...
