شاعری ہب / غزل / وہ ملے بھی تو اک اجنبی کی طرح

وہ ملے بھی تو اک اجنبی کی طرح

Woh Mile bhi to Ik Ajnabi ki Tarah Zehra

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ ملے بھی تو اک اجنبی کی طرح ملے ہم سے

جن کے لیے ہم نے ساری زندگی سنواری تھی!

ہم نے تو اپنے دل کو اک آئینہ بنا رکھا تھا

جس میں ان کی تصویر سب سے پیاری تھی!

زہراؔ وقت کے فیصلے کو تسلیم کر لیا ہم نے

جس نے دل کے ہر درد کو راحت بنا دی!

Woh Mile Bhi To Ik Ajnabi Ki Tarah Mile Hum Se

Jin Ke Liye Hum Ne Saari Zindagi Sanwaari Thi!

Hum Ne To Apne Dil Ko Ik Aayina Bana Rakha Tha

Jis Mein Un Ki Tasveer Sab Se Pyaari Thi!

غزل Urdu
Comment
زہرا نگاہ
تعارفِ شاعر

زہرا نگاہ

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 14 مئی 1937 — حیات (Living Legend) 📍

سیدہ زہرا نگاہ (پیدائش: 14 مئی 1937ء) اردو ادب کی تاریخ میں نسائی وقار، دلکش ترنم، کلاسیکی شائستگی اور گہرے سماجی شعور کی سب سے معتبر اور مقبول ترین شاعرہ ہیں۔ آپ حیدر آباد دکن...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے