پروفیسر وسیم بریلوی
Prof. Waseem Barelvi
Classical
18 فروری 1940-?
بریلی، اتر پردیش, بھارت
زاہد حسن المعروف پروفیسر وسیمؔ بریلوی (پیدائش: 18 فروری 1940ء، بریلی، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے استادِ محترم، دانائی و وقار کے عظیم شاعر اور صاحبِ فکر و خودداری مانے جاتے ہیں۔ آپ نے ایم اے اردو کی تعلیم حاصل کی اور روہیل کھنڈ یونیورسٹی بریلی کے شعبۂ اردو کے صدر اور پروفیسر رہے۔ وسیم بریلوی کی شاعری میں انسانی تجربات کی گہرائی، باوقار لہجہ، اخلاقی صلابت اور اصول پسندی کا ایسا حسین امتزاج ہے جو ہر نسل کے قاری کو سحر زدہ کر دیتا ہے۔ ان کا تاریخی شعر 'اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے / جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے' اور 'جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے / اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا' اردو ادب کے لازوال ضرب الامثال بن چکے ہیں۔ آپ کے شعری مجموعوں میں 'تبسمِ غم'، 'آنسو مرے دامن ترے'، 'مزاج'، 'آنکھ آنکھ آنسو'، 'چراغ' اور 'کلیاتِ وسیم بریلوی' شامل ہیں۔
آندھیوں کے رخ موڑ دینے کا عزم رکھتے ہیں
کہ سچائی کا چراغ کبھی بجھ نہیں سکتا
Aandhiyon Ke Rukh Mod Dene Ka Azm Rakhte Hain
Ke Sacchayi Ka Chiraagh Kabhi Bujh Nahin Sakta
وسیمؔ وقار اور دانائی کا یہ سفر سدا رہے گا
جس پر فخر کرتے ہیں سدا اہلِ بصیرت
Waseem Waqaar Aur Daanayi Ka Yeh Safar Sada Rahe Ga
Jis Par Fakhr Karte Hain Sada Ahl-e-Baseerat
اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے
تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے
Apne Chehre Se Jo Zaahir Hai Chhupaayein Kaise
Teri Marzi Ke Mutaabiq Nazar Aayein Kaise
ہوا کا کام ہے چلنا دیے کا کام ہے جلنا
وہ اپنا کام کرتی ہے میں اپنا کام کرتا ہوں
Hawa Ka Kaam Hai Chalna Diye Ka Kaam Hai Jalna
Woh Apna Kaam Karti Hai Main Apna Kaam Karta Hoon
ہم نے خودداری کے رشتوں کو نبھایا ہے سدا
سر جھکانے سے تو بہتر ہے کہ سر کٹ جائے
Hum Ne Khuddaari Ke Rishton Ko Nibhaaya Hai Sada
Sar Jhukaane Se To Behtar Hai Ke Sar Kat Jaaye
محبت میں منافقت کو جگہ مت دینا یارو
جس سے رشتہ ہو اسے سچے دل سے نبھاؤ
Mohabbat Mein Munaafaqat Ko Jagah Mat Dena Yaaro
Jis Se Rishta Ho Use Sacche Dil Se Nibhaao
اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے
جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے
Usoolon Par Jahan Aanch Aaye Takraana Zaroori Hai
Jo Zinda Ho To Phir Zinda Nazar Aana Zaroori Hai
جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے
اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا
Jhooth Wale Kahin Se Kahin Badh Gaye
Aur Main Tha Ke Sach Bolta Rah Gaya
