شاعری ہب / غزل / جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے

جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے

Jhooth Wale Kahin se Kahin Badh Gaye Ghazal Barelvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے

اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا!

وہ تو منزل پہ جا کے بھی خوش نہ ہوئے

اور میں راستے ہی میں ہنستا رہ گیا!

ہم نے تو اپنے اصولوں پہ سمجھوتہ نہ کیا

چاہے سارا جہاں ہی مخالف رہ گیا!

وسیمؔ خودداری کا یہ احساس بڑا انمول ہے

جس سے ضمیر کا ہر گوشہ روشن رہ گیا!

Jhooth Wale Kahin Se Kahin Badh Gaye

Aur Main Tha Ke Sach Bolta Rah Gaya!

Woh To Manzil Pe Ja Ke Bhi Khush Na Hue

Aur Main Raaste Hi Mein Hansta Rah Gaya!

Hum Ne To Apne Usoolon Pe Samjhota Na Kiya

Chaahe Saara Jahan Hi Mukhaalif Rah Gaya!

Waseem Khuddaari Ka Yeh Ehsaas Bada Anmol Hai

Jis Se Zameer Ka Har Gosha Roshan Rah Gaya!

غزل Urdu
Comment
پروفیسر وسیم بریلوی
تعارفِ شاعر

پروفیسر وسیم بریلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 18 فروری 1940 📍

زاہد حسن المعروف پروفیسر وسیمؔ بریلوی (پیدائش: 18 فروری 1940ء، بریلی، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے استادِ محترم، دانائی و وقار کے عظیم شاعر اور صاحبِ فکر و خودداری مانے جاتے ہیں۔ آپ نے...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔