شاعری ہب / نظم / دستار اور وقار

دستار اور وقار

Dastaar-Aur-Waqaar Nazm Barelvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دستار اور وقار کا بھرم رکھنا ہی اصل زندگی ہے

جہاں انسان اپنے ضمیر کے سامنے سرفراز رہے سدا!

ہم نے کبھی لالچ میں آ کر سچائی کا سودا نہیں کیا

کیونکہ ہماری روح میں اصولوں کا نور دمکتا ہے سدا!

وسیمؔ عزتِ نفس کا یہ پرچم سدا اونچا رہے گا

جسے زمانے کے جھکڑ جھکا نہیں سکتے سدا!

Dastaar Aur Waqaar Ka Bharam Rakhna Hi Asal Zindagi Hai

Jahan Insaan Apne Zameer Ke Saamne Sarfaraaz Rahe Sada!

Hum Ne Kabhi Laalach Mein Aa Kar Sacchayi Ka Sauda Nahin Kiya

Kyunke Hamari Rooh Mein Usoolon Ka Noor Damakta Hai Sada!

Waseem Izzat-e-Nafs Ka Yeh Parcham Sada Ooncha Rahe Ga

Jise Zamane Ke Jhakkar Jhuka Nahin Sakte Sada!

نظم Urdu
Comment
پروفیسر وسیم بریلوی
تعارفِ شاعر

پروفیسر وسیم بریلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 18 فروری 1940 📍

زاہد حسن المعروف پروفیسر وسیمؔ بریلوی (پیدائش: 18 فروری 1940ء، بریلی، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے استادِ محترم، دانائی و وقار کے عظیم شاعر اور صاحبِ فکر و خودداری مانے جاتے ہیں۔ آپ نے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے