شاعری ہب / غزل / وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا

Woh-Jo-Hum-Mein-Tum-Mein-Qaraar-Tha-Barelvi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا وہ نبھائیں گے

چاہے زمانے کے سارے طوفان آ جائیں سدا!

ہم نے تو رکھی ہے وفا کی بنیاد سچائی پر

جہاں محبت کے دیپ کبھی نہیں بجھ پائیں گے سدا!

وسیمؔ کلاسیکی شکوہ سدا تابندہ رہے گا

جس سے چمنِ اردو کے پھول کھلتے جائیں گے سدا!

Woh Jo Hum Mein Tum Mein Qaraar Tha Woh Nibhaayenge

Chaahe Zamane Ke Saare Toofaan Aa Jaayein Sada!

Hum Ne To Rakhi Hai Wafa Ki Buniyaad Sacchayi Par

Jahan Mohabbat Ke Deep Kabhi Nahin Bujh Paayenge Sada!

Waseem Classical Shukoh Sada Taabinda Rahe Ga

Jis Se Chaman-e-Urdu Ke Phool Khilte Jaayenge Sada!

غزل Urdu
Comment
پروفیسر وسیم بریلوی
تعارفِ شاعر

پروفیسر وسیم بریلوی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 18 فروری 1940 📍

زاہد حسن المعروف پروفیسر وسیمؔ بریلوی (پیدائش: 18 فروری 1940ء، بریلی، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے استادِ محترم، دانائی و وقار کے عظیم شاعر اور صاحبِ فکر و خودداری مانے جاتے ہیں۔ آپ نے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے