تابش دہلوی

Tabish Dehlvi

Modern
9 نومبر 1911-23 ستمبر 2004 دہلی / کراچی, پاکستان
سید مسعود الحسن تابشؔ دہلوی (9 نومبر 1911ء – 23 ستمبر 2004ء) اردو کلاسیکی شاعری اور دبستانِ دہلی کے آخری چراغ، زبان و بیان کی فصاحت کے امام اور ریڈیو کی تاریخ کی سب سے معتبر و سحر انگیز آواز مانے جاتے ہیں۔ آپ دہلی میں پیدا ہوئے اور فانی بدایونی سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کی اور ریڈیو پاکستان پر تاریخ ساز خدمات انجام دیں۔ تابش دہلوی کی غزلوں میں دہلی کی خالص ٹکسالی زبان، شائستگی، سوز و گداز، سلاست اور حیا دار رومانیت کا وہ نکھار ہے جو دورِ حاضر میں ناپید ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں 'نمک دانِ تکلم'، 'غبارِ کارواں'، 'تقدیس' اور 'گوہرِ انجم' شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (Pride of Performance - 1998ء) اور تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ آپ کا مزار سخی حسن قبرستان، کراچی میں ہے۔
تقدیسِ سخن ہی سب سے بڑی دولت ہے اپنی جسے ہم نے ہر زمانے کی آلودگی سے بچایا ہے
Taqdees-e-Sukhan Hi Sab Se Badi Daulat Hai Apni Jise Hum Ne Har Zamane Ki Aaloodagi Se Bachaaya Hai
تفصیل دیکھیں »
ہم نے ہر دور میں لفظوں کا بھرم رکھا ہے تابشؔ اور زبانِ دہلی کی شائستگی کو سدا زندہ رکھا ہے
Hum Ne Har Daur Mein Lafzon Ka Bharam Rakha Hai Tabish Aur Zubaan-e-Dehli Ki Shaayastagi Ko Sada Zinda Rakha Hai
تفصیل دیکھیں »
غبارِ کارواں کی طرح بکھرتے چلے گئے ہم پر وفا کے راستے سے قدم نہ ہٹنے دیا سدا
Ghubaar-e-Kaarwaan Ki Tarah Bikharti Chale Gaye Hum Par Wafa Ke Raaste Se Qadam Na Hatne Diya Sada
تفصیل دیکھیں »
دبستانِ دہلی کا آخری چراغ سہی ہم پر اس چراغ سے ہزاروں دیے جلاتے رہے سدا
Dabistan-e-Dehli Ka Aakhri Chiraagh Sahi Hum Par Is Chiraagh Se Hazaar-haa Diye Jalaate Rahe Sada
تفصیل دیکھیں »
شبِ وصال کی وہ رعنائی اور دیدِ محبوب جس نے دل کے ہر اک داغ کو گلاب بنا دیا
Shab-e-Wisaal Ki Woh Raanaayi Aur Deed-e-Mehboob Jis Ne Dil Ke Har Ik Daagh Ko Gulaab Bana Diya
تفصیل دیکھیں »
یہ زندگی تری یاد میں سنور رہی ہے سدا جیسے چمن میں کوئی نغمہ گونجتا رہا سدا
Yeh Zindagi Teri Yaad Mein Sanwar Rahi Hai Sada Jaise Chaman Mein Koi Naghma Goonjta Raha Sada
تفصیل دیکھیں »
نمک دانِ تکلم سے بیاں نکلا جب ان کا تو ہر اک لفظ میں شیرینیِ گفتار نظر آئی
Namak Daan-e-Takallum Se Bayaan Nikla Jab Un Ka To Har Ik Lafz Mein Sheereeni-e-Guftaar Nazar Aayi
تفصیل دیکھیں »
دھوپ چھاؤں کا یہ کھیل ہے زندگی تابشؔ جہاں ہر لمحہ نیا امتحان بن کے ابھرتا ہے
Dhoop Chhaaon Ka Yeh Khel Hai Zindagi Tabish Jahan Har Lamha Naya Imtihaan Ban Ke Ubharta Hai
تفصیل دیکھیں »