شاعری ہب / شعر / دھوپ چھاؤں کا یہ کھیل ہے

دھوپ چھاؤں کا یہ کھیل ہے

Dhoop Chhaon ka Yeh Khel Hai Zindagi Sher Tabish

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دھوپ چھاؤں کا یہ کھیل ہے زندگی تابشؔ

جہاں ہر لمحہ نیا امتحان بن کے ابھرتا ہے

Dhoop Chhaaon Ka Yeh Khel Hai Zindagi Tabish

Jahan Har Lamha Naya Imtihaan Ban Ke Ubharta Hai

شعر Urdu
Comment
تابش دہلوی
تعارفِ شاعر

تابش دہلوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 9 نومبر 1911 — 23 ستمبر 2004 📍

سید مسعود الحسن تابشؔ دہلوی (9 نومبر 1911ء – 23 ستمبر 2004ء) اردو کلاسیکی شاعری اور دبستانِ دہلی کے آخری چراغ، زبان و بیان کی فصاحت کے امام اور ریڈیو کی تاریخ کی سب سے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے