شاعری ہب / غزل / ہم نے ہر دور میں لفظوں کا بھرم رکھا ہے

ہم نے ہر دور میں لفظوں کا بھرم رکھا ہے

Hum Ne Har Daur mein Lafzon ka Bharam Rakha Tabish

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہم نے ہر دور میں لفظوں کا بھرم رکھا ہے تابشؔ

اور زبانِ دہلی کی شائستگی کو سدا زندہ رکھا ہے!

ہم نے غزل کی آبرو پہ کبھی آنچ نہ آنے دی

اور کلاسیکی تغزل کے چراغ کو روشن رکھا ہے!

تابشؔ شائستگی و وقار ہی سب سے بڑا حسن ہے

جسے ہم نے ہر محفل میں سر بلند رکھا ہے!

Hum Ne Har Daur Mein Lafzon Ka Bharam Rakha Hai Tabish

Aur Zubaan-e-Dehli Ki Shaayastagi Ko Sada Zinda Rakha Hai!

Hum Ne Ghazal Ki Aabroo Pe Kabhi Aanch Na Aane Di

Aur Classical Taghazzul Ke Chiraagh Ko Roshan Rakha Hai!

Tabish Shaayastagi-o-Waqaar Hi Sab Se Bada Husn Hai

Jise Hum Ne Har Mehfil Mein Sar-Buland Rakha Hai!

غزل Urdu
Comment
تابش دہلوی
تعارفِ شاعر

تابش دہلوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 9 نومبر 1911 — 23 ستمبر 2004 📍

سید مسعود الحسن تابشؔ دہلوی (9 نومبر 1911ء – 23 ستمبر 2004ء) اردو کلاسیکی شاعری اور دبستانِ دہلی کے آخری چراغ، زبان و بیان کی فصاحت کے امام اور ریڈیو کی تاریخ کی سب سے...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔