شاعری ہب / غزل / دھوپ چھاؤں کا یہ کھیل ہے زندگی

دھوپ چھاؤں کا یہ کھیل ہے زندگی

Dhoop Chhaon ka Yeh Khel Hai Zindagi Tabish Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دھوپ چھاؤں کا یہ کھیل ہے زندگی تابشؔ

جہاں ہر لمحہ نیا امتحان بن کے ابھرتا ہے!

ہم نے تو اپنے دل کو اک آئینہ بنا رکھا تھا

پر ہر موڑ پہ نیا طوفان بن کے ابھرتا ہے!

تابشؔ صبر کے ساتھ سفر کو طے کرتے چلو ہم

کہ حق کا راستہ ہی اصل ارمان بن کے ابھرتا ہے!

Dhoop Chhaaon Ka Yeh Khel Hai Zindagi Tabish

Jahan Har Lamha Naya Imtihaan Ban Ke Ubharta Hai!

Hum Ne To Apne Dil Ko Ik Aayina Bana Rakha Tha

Par Har Mod Pe Naya Toofaan Ban Ke Ubharta Hai!

Tabish Sabr Ke Saath Safar Ko Tay Karte Chalo Hum

Ke Haq Ka Raasta Hi Asal Armaan Ban Ke Ubharta Hai!

غزل Urdu
Comment
تابش دہلوی
تعارفِ شاعر

تابش دہلوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 9 نومبر 1911 — 23 ستمبر 2004 📍

سید مسعود الحسن تابشؔ دہلوی (9 نومبر 1911ء – 23 ستمبر 2004ء) اردو کلاسیکی شاعری اور دبستانِ دہلی کے آخری چراغ، زبان و بیان کی فصاحت کے امام اور ریڈیو کی تاریخ کی سب سے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے