کشور ناہید

Kishwar Naheed

Classical
18 جون 1940--- بلند شہر / لاہور / اسلام آباد, پاکستان
کشور ناہید (پیدائش: 18 جون 1940ء، بلند شہر، بھارت) اردو ادب کی تاریخ کی سب سے نڈر، بے باک، انقلابی اور صفِ اول کی نسائی و مزاحمتی شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے معاشیات میں ایم اے کیا اور پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) کی ڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ کشور ناہید کی شاعری عورت کے وقار، جبر و استبداد کے خلاف بغاوت، آزادیِ اظہار اور سماجی برابری کی علامت ہے۔ ان کی عالمی شہرت یافتہ نظم 'ہم گناہ گار عورتیں' (جس کا دنیا کی درجنوں زبانوں میں ترجمہ ہوا) اور خود نوشت 'بری عورت کی کتھا' اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں 'لبِ گویا' (آدم جی ایوارڈ)، 'بے نام مسافت'، 'فتنہ سامانیِ دل' اور 'ہم گناہ گار عورتیں' شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کو ستارہِ امتیاز (2000ء)، صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی (1990ء) اور ملک کے سب سے بڑے ادبی اعزاز 'کمالِ فن ایوارڈ' (2017ء) سے نوازا۔
یہ ہم گنہگار عورتیں ہیں جو روشنی کی تلاش میں نکلتی ہیں اور سچائی کا پرچم سدا بلند رکھتی ہیں
Yeh Hum Gunahgaar Auratein Hain Jo Roshni Ki Talaash Mein Nikalti Hain Aur Sacchayi Ka Parcham Sada Buland Rakhti Hain
تفصیل دیکھیں »
اپنے ہونٹوں پہ خاموشی کا پہرا نہیں رہنے دیں گے اور زمانے کے ستم اب ہم نہیں سہنے دیں گے
Apne Honton Pe Khamoshi Ka Pehra Nahin Rahne Denge Aur Zamane Ke Sitam Ab Hum Nahin Sahne Denge
تفصیل دیکھیں »
زنجیرِ روایت کو توڑنا ہوگا اب نیا اک جہاں تراشنا ہوگا
Zanjeer-e-Riwayat Ko Todna Hoga Ab Naya Ik Jahan Taraashna Hoga
تفصیل دیکھیں »
ہم نے ہر دور میں سچ بول کے دیکھا ہے کشورؔ ظالم کے آگے کبھی سر نہیں جھکایا ہم نے
Hum Ne Har Daur Mein Sach Bol Ke Dekha Hai Kishwar Zaalim Ke Aage Kabhi Sar Nahin Jhukaya Hum Ne
تفصیل دیکھیں »
زندگی تو نے ہمیں کس موڑ پہ لا کھڑا کیا جہاں خواب بھی اپنے اور درد بھی اپنا
Zindagi Tu Ne Humein Kis Mod Pe Laa Khada Kiya Jahan Khwab Bhi Apne Aur Dard Bhi Apna
تفصیل دیکھیں »
لبِ گویا پہ جو حرفِ سچائی ہے وہ صدیوں کے سناٹے کا جواب ہے
Lab-e-Goya Pe Jo Harf-e-Sacchayi Hai Woh Sadiyon Ke Sannaate Ka Jawaab Hai
تفصیل دیکھیں »
تیری آنکھوں میں اپنے خواب دیکھیں اور اس دشتِ ستم میں بہار دیکھیں
Teri Aankhon Mein Apne Khwab Dekhein Aur Is Dasht-e-Sitam Mein Bahaar Dekhein
تفصیل دیکھیں »
یہ ہم گناہ گار عورتیں ہیں جو اہل جبہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں
Yeh Hum Gunahgaar Aurtein Hain Jo Ahl-e-Jubba Ki Tamkanat Se Na Raub Khaayein
تفصیل دیکھیں »
نہ جان بیچیں نہ سر جھکائیں یہ ہم گناہ گار عورتیں ہیں
Na Jaan Bechein Na Sar Jhukaayein Yeh Hum Gunahgaar Aurtein Hain
تفصیل دیکھیں »
وہ جو ہم میں تم میں اک فاصلہ تھا سدا اسے دل نے محبت کا راستہ بنا دیا
Woh Jo Hum Mein Tum Mein Ik Faasla Tha Sada Use Dil Ne Mohabbat Ka Raasta Bana Diya
تفصیل دیکھیں »