شاعری ہب / غزل / زندگی تو نے ہمیں کس موڑ پہ لا کھڑا کیا

زندگی تو نے ہمیں کس موڑ پہ لا کھڑا کیا

Zindagi Tu Ne Humein Kis Mod pe Laa Khada Kiya Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

زندگی تو نے ہمیں کس موڑ پہ لا کھڑا کیا

جہاں خواب بھی اپنے اور درد بھی اپنا!

ہم نے تو چاہا تھا سبھی کو گلے لگانا

پر ہر قدم پہ نکلا پرایا اپنا!

کشورؔ خودداری کے سفر میں تنہا ہی سہی

پر جھکنے نہ دیا کبھی سر اپنا!

Zindagi Tu Ne Humein Kis Mod Pe Laa Khada Kiya

Jahan Khwab Bhi Apne Aur Dard Bhi Apna!

Hum Ne To Chaaha Tha Sabhi Ko Gale Lagana

Par Har Qadam Pe Nikla Paraaya Apna!

غزل Urdu
Comment
کشور ناہید
تعارفِ شاعر

کشور ناہید

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 18 جون 1940 — -- 📍

کشور ناہید (پیدائش: 18 جون 1940ء، بلند شہر، بھارت) اردو ادب کی تاریخ کی سب سے نڈر، بے باک، انقلابی اور صفِ اول کی نسائی و مزاحمتی شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے