شاعری ہب / نظم / بے نام مسافت

بے نام مسافت

Be-Naam Musafat Nazm Kishwar Naheed

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

بے نام مسافت کا یہ لمبا سفر

جہاں ہر موڑ پر اک نئی آزمائش ہے!

پر ہمارے قدم کبھی نہ ڈگمگائیں گے

کیونکہ سچائی ہی ہماری اصل خواہش ہے!

کشورؔ منزلِ مراد قریب آ رہی ہے

جہاں حریت و انصاف کی تابانی ہے!

Be-Naam Musafat Ka Yeh Lamba Safar

Jahan Har Mod Par Ik Nayi Aazmaaish Hai!

Par Hamare Qadam Kabhi Na Dagmagaayeinge

Kyunke Sacchayi Hi Hamari Asal Khwahish Hai!

نظم Urdu
Comment
کشور ناہید
تعارفِ شاعر

کشور ناہید

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 18 جون 1940 — -- 📍

کشور ناہید (پیدائش: 18 جون 1940ء، بلند شہر، بھارت) اردو ادب کی تاریخ کی سب سے نڈر، بے باک، انقلابی اور صفِ اول کی نسائی و مزاحمتی شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے