شاعری ہب / نظم / ہم گنہگار عورتیں (شاہکار نسائی نظم)

ہم گنہگار عورتیں (شاہکار نسائی نظم)

Hum Gunahgaar Auratein Nazm Kishwar Naheed

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ ہم گنہگار عورتیں ہیں

جو روشنی کی تلاش میں نکلتی ہیں!

جو جھوٹ کے سوداگروں سے نہیں ڈرتیں

اور اپنے حق کی بات کرتی ہیں!

ہم نے زنجیروں کو توڑ کر

اپنے خوابوں کا نگر بسایا ہے!

کشورؔ حق گوئی کی یہ للکار سدا گونجے گی

جس نے ہر جبر کے سامنے سر اٹھایا ہے!

Yeh Hum Gunahgaar Auratein Hain

Jo Roshni Ki Talaash Mein Nikalti Hain!

Jo Jhooth Ke Saudaagaron Se Nahin Dartin

Aur Apne Haq Ki Baat Karti Hain!

Hum Ne Zanjeeron Ko Tod Kar

Apne Khwabon Ka Nagar Basaaya Hai!

Kishwar Haq-Goyi Ki Yeh Lalkaar Sada Goonje Gi

Jis Ne Har Jabr Ke Saamne Sar Uthaaya Hai!

نظم Urdu
Comment
کشور ناہید
تعارفِ شاعر

کشور ناہید

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 18 جون 1940 — -- 📍

کشور ناہید (پیدائش: 18 جون 1940ء، بلند شہر، بھارت) اردو ادب کی تاریخ کی سب سے نڈر، بے باک، انقلابی اور صفِ اول کی نسائی و مزاحمتی شاعرہ اور ادیبہ ہیں۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے