شاعری ہب / غزل / ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں

ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں

Zkr Mira Bh Bdi bhi Ase Mnzor

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ذکر میرا بہ بدی بھی، اُسے منظور نہیں

غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دُور نہیں

وعدۂ سیرِ گلستاں ہے، خوشا طالعِ شوق

مژدۂ قتل مقدّر ہے جو مذکور نہیں

شاہدِ ہستئ مطلق کی کمر ہے عالَم

لوگ کہتے ہیں کہ 'ہے ' پر ہمیں‌ منظور نہیں

Zakar Mera bah badi bhi ase manzoor nahin

Ghair ki Baat bigar jae to Kuch dor nahin

Oad-e- sair-e glstan he khosha tala-e Shoq

Mzhd-e Qatl mqdr hai jo mazkur nahin

Shahid-e hst-e mtlq ki kamar hai aalm

Log kehte hain ke hai ' par Hamen manzoor nahin

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے