شاعری ہب / غزل / از آں جا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہم

از آں جا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہم

Az Aan Ja Kh Hsrt Ksh Iar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

از آں جا کہ حسرت کشِ یار ہیں ہم

رقیبِ تمنائے دیدار ہیں ہم

رسیدن گلِ باغ واماندگی ہے

عبث محفل آرائے رفتار ہیں ہم

تماشائے گلشن تماشائے چیدن

بہار آفرینا! گنہ گار ہیں ہم

Az aan ja ke Hasrat ksh-e Yaar hain Hum

Raqeeb-e tmnae Deedar hain Hum

Rsidn Gul-e Baagh oamandgi hai

Abs mahfil aaraee Raftaar hain Hum

Tmashae Gulshan tmashae chidn

Bahar aafrina gnh Gaar hain Hum

غزل
Comment
مرزا غالب
تعارفِ شاعر

مرزا غالب

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 27 دسمبر 1797 — 15 فروری 1869 📍

مرزا اسد اللہ خان غالب (27 دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو اور فارسی زبان کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور عہد ساز کلاسیکی شاعر اور نثری ادیب تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے