شاعری ہب / غزل / زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے

Zindagi Jabar-e-Musalsal ki Tarah Kaati Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

آؤ اک سجدہ کریں عالمِ مدہوشی میں

لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں

ہم نے خود اپنے لیے چن لی تھی خاروں کی ڈگر

ہمیں پھولوں کی وہ شاداب فضا یاد نہیں

روشنی مانگنے آئے تھے جو لوگ مرے گھر

وہ مرے گھر کو جلا کر گئے وہ یاد نہیں

اب ترے بعد کوئی اور نہ آئے گا یہاں

دل کی ویرانی میں اب کوئی دعا یاد نہیں

Zindagi Jabar-e-Musalsal Ki Tarah Kaati Hai

Jaane Kis Jurm Ki Payi Hai Saza Yaad Nahin

Aao Ik Sajda Karein Aalam-e-Madhoshi Mein

Log Kehte Hain Ke Saghar Ko Khuda Yaad Nahin

Hum Ne Khud Apne Liye Chun Li Thi Khaaron Ki Dagar

Humein Phoolon Ki Woh Shaadab Faza Yaad Nahin

غزل
Comment
ساغر صدیقی
تعارفِ شاعر

ساغر صدیقی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1928 — 19 جولائی 1974 📍

محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے