شاعری ہب / غزل / تیری محفل میں ہم جو آئے تھے

تیری محفل میں ہم جو آئے تھے

Teri Mehfil mein Hum Jo Aaye The

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تیری محفل میں ہم جو آئے تھے

اک حسیں خواب لے کے آئے تھے

ہم تو سمجھے تھے قدر ہوگی یہاں

پر ترے تیر ہم پہ چھائے تھے

ساغرؔ اس دشت میں وفا کا صلہ

ہم نے اشکوں میں ہی بہائے تھے

Teri Mehfil Mein Hum Jo Aaye The

Ik Haseen Khwab Le Ke Aaye The

Hum To Samjhe The Qadr Hogi Yahan

Par Tere Teer Hum Pe Chhaye The

غزل
Comment
ساغر صدیقی
تعارفِ شاعر

ساغر صدیقی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1928 — 19 جولائی 1974 📍

محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے