شاعری ہب / غزل / زلف کو چھونے نہ دے بادِ صبا کو ساغر

زلف کو چھونے نہ دے بادِ صبا کو ساغر

Zulf ko Chhoone na De Baad-e-Saba ko Saaghar

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

زلف کو چھونے نہ دے بادِ صبا کو ساغرؔ

یہ ہوا بھی ترے حسن کی دیوانی ہے

ہم نے دیکھے ہیں تری آنکھ کے جادو کیا کیا

یہ محبت تو مری روح کی مہمانی ہے

تو رہے شاد سدا اپنے دیارِ گل میں

ہم فقیروں کی تو یہ خاک ہی نشانی ہے

Zulf Ko Chhoone Na De Baad-e-Saba Ko Saghar

Yeh Hawa Bhi Tere Husn Ki Deewani Hai

Hum Ne Dekhe Hain Teri Aankh Ke Jaadu Kya Kya

Yeh Mohabbat To Meri Rooh Ki Mehmani Hai

غزل
Comment
ساغر صدیقی
تعارفِ شاعر

ساغر صدیقی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1928 — 19 جولائی 1974 📍

محمد اختر المعروف ساغر صدیقی (1928ء – 19 جولائی 1974ء) اردو زبان کے سب سے سچے، درویش، قلندر صفت اور المیہ کے عظیم شاعر تھے۔ آپ امرتسر (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے