شاعری ہب / شعر / یہ زندگی جو ہم نے جی لی ہے

یہ زندگی جو ہم نے جی لی ہے

Yeh Zindagi Jo Hum Ne Jeeli Hai Fakhr ke Saath Sher Zaheer

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ زندگی جو ہم نے جی لی ہے فخر کے ساتھ

جس پر لکھی ہے انسانی آزادی کی داستان

Yeh Zindagi Jo Hum Ne Jeeli Hai Fakhr Ke Saath

Jis Par Likhi Hai Insaani Aazaadi Ki Daastaan

شعر Urdu
Comment
ظہیر کاشمیری
تعارفِ شاعر

ظہیر کاشمیری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 21 اگست 1919 — 12 دسمبر 1994 📍

پیرزادہ سید برکت علی المعروف ظہیرؔ کاشمیری (21 اگست 1919ء – 12 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خطیبِ انقلاب'، ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے رہنما، شعلہ بیان مفکر اور انقلابی شاعری...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے