شاعری ہب / شعر / خاموشی سے بھی طوفان

خاموشی سے بھی طوفان

Khamoshi se bhi Toofaan Uth-Te Hain Sher Zaheer

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی سے بھی طوفان اٹھتے ہیں اگر سمجھو

کہ زنجیروں کے ٹوٹنے کا وقت اب قریب ہے

Khamoshi Se Bhi Toofaan Uth-te Hain Agar Samjho

Ke Zanjeeron Ke Tootne Ka Waqt Ab Qareeb Hai

شعر Urdu
Comment
ظہیر کاشمیری
تعارفِ شاعر

ظہیر کاشمیری

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 21 اگست 1919 — 12 دسمبر 1994 📍

پیرزادہ سید برکت علی المعروف ظہیرؔ کاشمیری (21 اگست 1919ء – 12 دسمبر 1994ء) اردو ادب کی تاریخ میں 'خطیبِ انقلاب'، ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے رہنما، شعلہ بیان مفکر اور انقلابی شاعری...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے