شاعری ہب / غزل / یہ رسمِ الفت ہے یہ روایتِ وفا ہے

یہ رسمِ الفت ہے یہ روایتِ وفا ہے

Yeh Rasm-e-Ulfat Hai Yeh Riwayat-e-Wafa Hai Ghazal Hasrat

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ رسمِ الفت ہے یہ روایتِ وفا ہے

کہ جو بھی سر پھیرے وہی سزا پاتا ہے!

ہم نے تو اپنے دل کو نثار کر کے دیکھا

پر ہر قدم پہ یار کا کرم آزماتا ہے!

حسرتؔ اس دربار میں جھکنا ہی سربلندی

جہاں شاہ بھی فقیر بن کے جھک جاتا ہے!

Yeh Rasm-e-Ulfat Hai Yeh Riwayat-e-Wafa Hai

Ke Jo Bhi Sar Phere Wohi Saza Paata Hai!

Hum Ne To Apne Dil Ko Nisaar Kar Ke Dekha

Par Har Qadam Pe Yaar Ka Karam Aazmaata Hai!

غزل Urdu
Comment
مولانا حسرت موہانی
تعارفِ شاعر

مولانا حسرت موہانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1 جنوری 1875 — 13 مئی 1951 📍 موہان / علی گڑھ / کانپور / لکھنؤ، ہندوستان

سید فضل الحسن المتخلص بہ حسرتؔ موہانی (1 جنوری 1875ء – 13 مئی 1951ء) اردو غزل کی جدید تاریخ کے سب سے جلیل القدر استاد، مجاہدِ آزادی اور 'رئیس المتغزلین' کے لقب سے ملقب عظیم...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے