حسنِ بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا
Husn-e-Be-Parwah ko Khud-Been-o-Khudaara Kar Diya Ghazal Hasrat
حسنِ بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا
کیا کیا میں نے کہ اظہارِ تمنا کر دیا!
پردہ داری کا وہ پردہ چاک کر ڈالا ہم نے
اور جلوۂ محبوب کو جگ میں عیاں کر دیا!
حسرتؔ اس عاشقی کے سچے سودے کے بدلے
ہم نے تو اپنے دل کو اک جہاں کر دیا!
Husn-e-Be-Parwah Ko Khud-Been-o-Khudaara Kar Diya
Kya Kiya Main Ne Ke Izhaar-e-Tamanna Kar Diya!
Parda-Daari Ka Woh Parda Chaak Kar Daala Hum Ne
Aur Jalwa-e-Mehboob Ko Jag Mein Ayaan Kar Diya!
غزل
Urdu
تعارفِ شاعر
مولانا حسرت موہانی
سید فضل الحسن المتخلص بہ حسرتؔ موہانی (1 جنوری 1875ء – 13 مئی 1951ء) اردو غزل کی جدید تاریخ کے سب سے جلیل القدر استاد، مجاہدِ آزادی اور 'رئیس المتغزلین' کے لقب سے ملقب عظیم...
