شاعری ہب / غزل / دھوپ ہے تیز مگر سائے میں دل لگتا ہے

دھوپ ہے تیز مگر سائے میں دل لگتا ہے

Dhoop Hai Tez Magar Saaye mein Dil Lagta Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دھوپ ہے تیز مگر سائے میں دل لگتا ہے

وہ مرا ہو کے بھی مجھ سے جدا لگتا ہے

ہم تو نکلے تھے ترے شہر کی رونق کے لیے

اب تو ویرانہ بھی اک باغِ صفا لگتا ہے

رات کے سناٹے میں جب یاد تری آتی ہے

دلِ بے تاب کسی پل تو دعا لگتا ہے

Dhoop Hai Tez Magar Saaye Mein Dil Lagta Hai

Woh Mera Ho Ke Bhi Mujh Se Juda Lagta Hai

Hum To Nikle The Tere Shahr Ki Raunaq Ke Liye

Ab To Weerana Bhi Ik Baagh-e-Safa Lagta Hai

غزل
Comment
ناصر کاظمی
تعارفِ شاعر

ناصر کاظمی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 8 دسمبر 1925 — 2 مارچ 1972 📍

سید ناصر رضا کاظمی المعروف ناصر کاظمی (8 دسمبر 1925ء – 2 مارچ 1972ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، صاحبِ طرز اور جدید غزل کے بانی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ انبالہ (برطانوی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے