شاعری ہب / غزل / ہمارے شہر میں اب رات بھی نہیں ہوتی

ہمارے شہر میں اب رات بھی نہیں ہوتی

Hamare Shehr mein Ab Raat bhi Nahin Hoti

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہمارے شہر میں اب رات بھی نہیں ہوتی

شمع جلتی ہے تو پروانہ نہیں ہوتا

اداس شام کے سائے میں بیٹھ کر ناصرؔ

کوئی بھی قصۂ ویرانہ نہیں ہوتا

ہمیں تو راس ہے اس دشت کی خموشی اب

کوئی بھی دل سے شناسائی کا فسانہ نہیں ہوتا

Hamare Shahr Mein Ab Raat Bhi Nahin Hoti

Shama Jalti Hai To Parwana Nahin Hota

Udaas Shaam Ke Saaye Mein Baith Kar Nasir

Koi Bhi Qissa-e-Weerana Nahin Hota

غزل
Comment
ناصر کاظمی
تعارفِ شاعر

ناصر کاظمی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 8 دسمبر 1925 — 2 مارچ 1972 📍

سید ناصر رضا کاظمی المعروف ناصر کاظمی (8 دسمبر 1925ء – 2 مارچ 1972ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، صاحبِ طرز اور جدید غزل کے بانی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ انبالہ (برطانوی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے